مندرجات کا رخ کریں

اسکربوط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اسقربوط
دیگر ناممولر بیماری، چیڈل بیماری، اسکوربوٹس[1] بارلو بیماری، ہائپوایسکوربیمیا،[1] وٹامن سی کی کمی، ہائپو وٹامنوسس سی
Image
اسقربوط زدہ مسوڑھے، جو اسقربوط کی ایک علامت ہیں۔ دانتوں کے درمیان مثلث نما حصوں میں مسوڑھوں کی سرخی ظاہر ہو رہی ہے۔
اختصاصدروں افرازیات
علاماتکمزوری، تھکن محسوس ہونا، بالوں میں تبدیلی، بازوؤں اور ٹانگوں میں درد، مسوڑھوں کی بیماری، آسانی سے خون بہنا[1][2]
اسبابحیاتین ج کی کمی[1]
خطرے کے عواملذہنی عوارض، غیر معمولی غذائی عادات، شراب نوشی کا عارضہ، منشیات کے استعمال کا عارضہ، آنتوں میں غذائی اجزا کے جذب کا نقص، ڈائلیسس،[2] سمندری سفر (تاریخی طور پر)، سمندر میں پھنس جانا
تشخیصی طریقہعلامات کی بنیاد پر[2]
علاجوٹامن سی سپلیمنٹ،[1] ایسی غذا جس میں پھل اور سبزیاں شامل ہوں، خصوصاً ترش پھل
شرحنایاب (موجودہ دور میں)[2]

اسکربوط[3] یا سقربوط / اسقربوط (انگریزی: Scurvy اسکروی) حیاتین ج (وٹامن سی) کی کمی سے پیدا ہونے والی ایک بیماری ہے، جو سوء تغذیہ کی ایک حالت شمار ہوتی ہے۔[1] اس کی ابتدائی علامات میں کمزوری، تھکن اور بازوؤں اور ٹانگوں میں درد شامل ہیں۔[1][2] اگر علاج نہ کیا جائے تو خون کے سرخ خلیات میں کمی، مسوڑھوں کی بیماریاں، بالوں میں تبدیلیاں اور جلد سے خون رسنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔[1][4] بیماری بڑھنے پر زخم دیر سے بھرنے لگتے ہیں، مزاج اور شخصیت میں تبدیلی آ سکتی ہے اور آخرکار عدویٰ یا شدید خون بہنے کے باعث موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔[2]

علامات ظاہر ہونے سے پہلے عموماً کم از کم ایک ماہ تک غذا میں حیاتین ج کی بہت کم یا بالکل عدم موجودگی رہتی ہے۔[1][2] موجودہ دور میں اسکربوط زیادہ تر نظر انداز کیے گئے بچوں، ذہنی عوارض میں مبتلا افراد، غیر معمولی غذائی عادات رکھنے والوں، شراب نوشی کے شکار افراد اور اکیلے رہنے والے معمر لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ دیگر خطرے کے عوامل میں آنتوں کی سوء جذب (malabsorption) اور ڈائیلاسس شامل ہیں۔[2]

اگرچہ بہت سے جانور اپنے جسم میں خود حیاتین ج (وٹامن سی) پیدا کر لیتے ہیں مگر انسان اور بعض دیگر جاندار ایسا نہیں کر سکتے۔[2] حیاتین ج مانع تکسید (اینٹی آکسیڈنٹ) ہے جو کولاجن، کارنیٹین اور کیٹی کولامین جیسے اہم مرکبات کی تشکیل کے لیے ضروری ہے نیز یہ آنتوں کو غذا سے فولاد (آئرن) کے جذب میں بھی مدد دیتا ہے۔[2][5][6] تشخیص عموماً ظاہری علامات، ایکس رے اور علاج کے بعد بہتری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔[2]

علاج کے لیے حیاتین ج کے سپلیمنٹ منھ کے ذریعے[1] یا بہتر نتائج کے لیے دروں وریدی طور پر دیے جاتے ہیں۔ اکثر چند دنوں میں بہتری شروع ہو جاتی ہے اور چند ہفتوں میں مکمل صحت یابی ممکن ہوتی ہے۔[2] غذا میں حیاتین ج کے اہم ذرائع میں کچے ترشاوا پھل اور کئی سبزیاں شامل ہیں جیسے سرخ مرچ، شاخ گوبھی اور ٹماٹر۔[2] کھانا پکانے سے عموماً غذاؤں میں موجود حیاتین ج کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔[2]

دیگر غذائی کمی کی بیماریوں کے مقابلے میں اسکربوط نسبتاً کم ہوتا ہے۔[2] یہ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں ناقص غذائیت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔[2] پناہ گزینوں میں اس کی شرح 5 سے 45 فیصد تک رپورٹ کی گئی ہے۔[7] اسکربوط کا ذکر قدیم مصر کے زمانے سے ملتا ہے اور تاریخی طور پر یہ طویل سمندری سفر میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا تھا جہاں اس کے باعث بڑی تعداد میں ملاح ہلاک ہو جاتے تھے۔[2][8] بادبانی جہازوں کے دور کے آخری زمانے میں یہ اندازہ لگایا جاتا تھا کہ بڑے بحری مہماتی سفر میں تقریباً 50 فیصد ملاح اسکربوط سے مر جائیں گے۔[9][10] طویل سمندری سفر کے دوران ملاح مدتوں خشکی سے دور رہتے تھے اور ان کی خوراک محدود اقسام کے خشک غذائی ذخیرے پر مشتمل ہوتی تھی جبکہ پھلوں، سبزیوں اور حیاتین ج والی دیگر غذاؤں کی کمی کے باعث انھیں اسکربوط لاحق ہو جاتا تھا۔[11]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 "Scurvy". GARD (بزبان انگریزی). 1 Sep 2016. Archived from the original on 2017-01-26. Retrieved 2016-09-26.
  2. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 A Agarwal; A Shaharyar; A Kumar; MS Bhat; M Mishra (Jun 2015). "Scurvy in pediatric age group - A disease often forgotten?". Journal of Clinical Orthopaedics and Trauma (بزبان انگریزی). 6 (2): 101–7. DOI:10.1016/j.jcot.2014.12.003. PMC:4411344. PMID:25983516.
  3. ↑ مختصر فرہنگ اغذیہ، ص 20
  4. ↑ "Vitamin C". Office of Dietary Supplements (بزبان انگریزی). 11 Feb 2016. Archived from the original on 2017-07-30. Retrieved 2017-07-18.
  5. ↑ Carole J. Coffee (1999). Quick Look: Metabolism (بزبان انگریزی). Hayes Barton. p. 26. ISBN:1-59377-192-4.
  6. ↑ "Vitamin C". Linus Pauling Institute (بزبان انگریزی). 22 Apr 2014. Archived from the original on 2018-09-16. Retrieved 2023-06-04.
  7. ↑ Andre M. N. Renzaho (2016). Globalisation, Migration and Health: Challenges and Opportunities (بزبان انگریزی). World Scientific. p. 94. ISBN:978-1-78326-889-4. Archived from the original on 2017-09-08.
  8. ↑ Pamela D. Toler (2012). Mankind: The Story of All of Us (بزبان انگریزی). Running Press. p. 296. ISBN:978-0-7624-4717-6. Archived from the original on 2017-09-08.
  9. ↑ Catherine Price (2017). "The Age of Scurvy". Distillations (بزبان انگریزی). Vol. 3, no. 2. pp. 12–23. Archived from the original on 2021-01-24. Retrieved 2018-04-17.
  10. ↑ Jonathon Lamb (2011). "BBC - History - British History in depth: Captain Cook and the Scourge of Scurvy". Bbc.co.uk (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2022-03-06. Retrieved 2022-03-05.
  11. ↑ Richard L. Myers (2007). The 100 Most Important Chemical Compounds: A Reference Guide (بزبان انگریزی). ABC-CLIO. pp. 30–32. ISBN:978-0-313-33758-1. Archived from the original on 2016-06-17. Retrieved 2015-11-21.