عقرب دوم
| ||||
|---|---|---|---|---|
| معلومات شخصیت | ||||
| تاریخ پیدائش | 4 ہزاریہ ق.م | |||
| شہریت | قدیم مصر | |||
| خاندان | مصر کا پہلا شاہی سلسلہ | |||
| دیگر معلومات | ||||
| پیشہ | مقتدر اعلیٰ ، شاہی حکمران | |||
| درستی - ترمیم | ||||
عقرب دوم بالائی مصرِ (صعيد مصر) کے آخری بادشاہوں میں سے تھا، جس نے مصر کے اتحاد سے پہلے تقریباً 3200 قبل مسیح کے قریب حکومت کی۔ اس کے نام کو بعض اوقات دیوی “سرقت” سے جوڑا جاتا ہے، جس کی علامت عقرب (بچھو) تھی۔ روایات کے مطابق بادشاہ عقرب ایک بہادر اور ماہر جنگجو تھا، جس نے ایک ظالم بادشاہ کے خلاف بغاوت کی جو عوام کو غلام بنا رہا تھا۔ عقرب نے اس ظالم حکمران کو شکست دے کر اقتدار سنبھالا اور انصاف کے ساتھ حکومت کی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ عقرب دوم کی وفات تقریباً 3280 قبل مسیح میں ہوئی۔ بعد ازاں شمالی مصر (مصرِ سفلی) کے ایک بادشاہ نے موقع سے فائدہ اٹھا کر جنوبی علاقوں پر حملہ کیا، لیکن بادشاہ مینا (یا نارمر) نے اس کے خلاف جنگ کی، اسے شکست دی اور دونوں مصر کو متحد کر دیا۔ اسی دور کی یادگار کے طور پر ایک تختی (لوحہ نارمر) بنائی گئی، جس میں مصر کے اتحاد کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ تختی قدیم مصری فن اور ہیروگلیف تحریر کے ابتدائی دور کی اہم مثال سمجھی جاتی ہے۔[1]

اضافی تصاویر
[ترمیم]- عقرب دوم کا ہتھوڑے کا سر، بادشاہ کی تصویر
- عقرب دوم کے ہتھوڑے کے سر کی تفصیل


