BBCUrdu.com
ImageImageImageImageImageImageImage
ImageImage
 
Image
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
Image
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
Image
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
Image
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 July, 2006, 13:11 GMT 18:11 PST
Image
 
ImageImageImage
Imageیہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے Imageپرِنٹ کریں
’ویب پر پابندی قومی مفاد میں‘
 

 
Image
 
Image
بلوچ ویب سائٹ
آزادی کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا: وزیر مملکت
پاکستان میں وزیر مملکت برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام اسحاق خان خاکوانی نے پاکستان میں چونتیس ویب سائٹوں تک لوگوں کی رسائی روکنے کے فیصلے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی نظر میں کچھ ایسی ویب سائٹیں آئی ہیں جن پر باغیانہ اور ملک و حکومت مخالف مواد موجود تھا۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) نے ایک ہدایت نامہ میں ملک میں تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو چونتیس ویب سائٹس تک لوگوں کی رسائی روکنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ ’ان ویب سائٹوں میں سے بیشتر پر بلوچ قوم پرست تحریک سے وابستہ مواد اور حکومت کی جانب سے بلوچستان میں فوجی آپریشن کے حوالے سے خبریں شائع کی گئی ہیں۔ تعزیرات پاکستان کے مطابق ایسے مواد کی تشہیر و اشاعت قابل سزا جرم ہے۔ یہ بات درست ہے کہ بنیادی طور پر پرنٹ یا مطبوعہ مواد اس قانون کے زُمرے میں آ تا تھا مگر بدلتے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اب یہ قانون ملک دشمن اور قومی مفاد کے خلاف آن لائن اشاعت پر بھی عائد ہوتا ہے۔ یوں حکومتی ادارے انٹرنیٹ کے ذریعے ملک دشمن اور نسلی و لسانی بنیاد پر نفرت اور قومی تفریق کی ترغیب دینے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کا جواز رکھتے ہیں‘۔

اسحاق خان خاکوانی نے کہا کہ ’پی ٹی اے کی شائع کردہ فہرست میں زیادہ ترویب سائٹوں پر بلوچستان کے حوالے سے بلوچی، فارسی اور چند سائٹوں پر انگریزی اور اردو میں بھی ملک دشمن مواد شائع کیا گیا تھا۔ ان ویب سائٹوں پر جلاوطن بلوچ رہنماؤں کے پیغامات کے علاوہ ’گریٹر بلوچستان‘ کا جھنڈا اور نقشے شائع کیے گئے ہیں۔ اس نقشہ میں ایران کا کچھ حصّہ بھی شامل نظر آتا ہے۔ حکومت کسی فرد یا تنظیم کو دوسرے مملک کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دے سکتی‘۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ’یہ درست ہے کہ انٹرنیٹ پر اظہار آزادی آن لائن نظام کا ایک روشن پہلو ہے مگر چند افراد کے ہاتھوں اس آزادی کے غلط استعمال کی وجہ سے ایسی ویب سائٹوں تک رسائی روکنی ضروری ہو جاتی ہے‘۔

اسحاق خان خاکوانی کے مطابق حکومتی فیصلوں سے متاثرہ فریق ان اقدامات کو قانونی طور پر چیلنج کرنے اور عدالت میں اپنی صفائی پیش کر نے کا پورا حق رکھتے ہیں ـ مگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے حکومت کی جانب سےعائد کردہ پابندی کے بعد ان ویب سائٹس تک ملکی سطح پررسائی ممکن نہیں ہے تاہم پروکسی اور انانیمائزر ویب سائٹوں کے ذریعے ان تمام ویب سائٹوں تک رسائی ممکن ہے۔

 
 Image
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
ImageImageImage
Imageیہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے Imageپرِنٹ کریں
 

Image
Image
واپس اوپر
ImageCopyright BBC
Image
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر Image
 
Image
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
Image
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد  
Image Image